میانوالی شہر کی تاریخی معلومات پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں


image

میانوالی تاریخ کے آئینے میں……….
میانہ قوم کے بزرگ حضرت میاں علی سرکار کے نام سے موسوم میانوالی(میاں آلی) اپنے وقتوں کا ایک تاریخی شہر گردانا جاتا ہے۔ سرائیکی وسیب کے اس خطے میں انسانی آباد کاری کی تاریخ کافی پرانی ہے ۔ ماضی میں یہاں چار بڑی قوموں کی آبا دکاری ہوئی تھی ، جیسے شمال مشرق سے اعوان، جنوب سے جٹ اور بلوچ جبکہ شمال مغرب سے پختون قبائل یہاں آکر آباد ہوئے تھے ۔اعوان قوم کوہ نمک کے علاقے خدری،پکھر وغیرہ میںساتویں صدی عیسوی میں عرب حملہ آوروں کے دور میں یہاں آ ئی تھی

۔اگرچہ اعوان قوم عربی النسل ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن تاریخی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ ہندو راجپوتوں پر مشتمل یہ جوانمرد لوگ دریائے سندھ کے مشرقی کنارے سے ہجرت کر کے یہاں آکر بس گئے تھے ،جسکی واضح مثال پکھر میں نمل کی پہاڑی پر راجپوت راجہ سر کپ کے قلعے کے کھنڈرات ہیں۔
تاریخی شواہد ثابت کرتے ہیں کہ ماضی میں یہ خطہ ڈیرہ اسماعیل خان کی طرح ہندو اکثریتی علاقہ ہونے کے باعث راجہ جے پال کی سلطنت کا حصہ تھا ،میانوالی کے قریب مالیخیل کے مقام پر راجہ تل کا قلعہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے۔ محمود غزنوی نے جب راجہ جے پال کی سلطنت کا خاتمہ کیا توبلوٹ اور تلوٹ کے قلعوں کو مسمار کر نے کے بعد بنوں سمیت ڈیرہ اسماعیل خان اور میانوالی میں صدیوں سے آباد ہندو آبادی کو بڑے پیمانے پردریائے سندھ کی دوسری جانب دھکیل دیا گیا،ان لوگوں کے ذہنوں میں غزنوی فوج کا اتنا خوف تھا کہ ان میں سے بیشتر لوگ اپنا وطن چھوڑ کر یورپ کا رخ کر چلے۔ غزنوی حملے کے بعد یہاں آباد کاری کا عمل کافی سست رہا اور بیشتر علاقہ سنسان رہا۔ پندرہویں صدی عیسوی سے کچھ قبل جٹوں کے مختلف قبائل (سیال،چھینے اورکھوکھرذات کے افراد) دریائے سندھ کے جنوبی حصوں ملتان اور بہاولپور سے ہجرت کر کے ڈیرہ اسماعیل خان اورمیانولی کے زیریں حصے میں آباد ہونا شروع ہوگئے،ان جٹ قبائل کا زریعہ معاش بھیڑ، بکریاں چرانا تھا۔
جٹوں کے فوراً بعد بلوچوں نے اس خطے میں قدم رکھا ،بلوچ بھی جنوب کی طرف سے آئے لیکن جٹوں کے بر عکس بلوچ قبائل ایک منظم اورخاصی بڑی تعدا د میں کوہ سلیمان کے علاقوں میں آکر آباد ہوئے ۔ بلوچ قوم کا شمار ڈیرہ جات(ڈیرہ اسماعیل خان،ڈیرہ غازیخان،بھکر) کے حکمرانوں میں ہوتا ہے ،جو دریا ئے سندھ کی دونوں جانب (میانوالی میں کچی سے لیکر دریا خان تک پھیل گئی) ، بلوچ تھل اور میانوالی کے علاقے پپلاں میں بھی آباد ہوئے ، اگرچہ میانوالی میں وہ اتنی بڑی تعداد میں آباد نہ تھے جتنا کہ ڈیرہ میں تھے ۔
میانوالی شہر کا نام یہاں کے ایک صوفی بزرگ میاںسلطان زکریا کے والد حضرت میاں علی سرکار کے نام سے منسوب ہے۔ تقریباً سولہویں صدی عیسوی کے قریب میانہ قوم کے اس بزرگ نے اس خطے میں اپنے بابرکت قدم رکھے اوریہاں کے لوگوں میں پیار و محبت اور انسانیت دوستی کا پرچار کیا،پھرانکے نام کی مناسبت سے اس شہر کو میاں علی اورپھر بعد میں میاں آلی( میاں والی) کہا جانے لگا۔
سرائیکی وسیب بشمول میانوالی میں پختون آباد کاری کی تاریخ:تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ محمود غزنوی کے حملوں سے قبل سوات،کوہاٹ،لکی مروت،بنوں، پشاور،عیسیٰ خیل،میانوالی، ٹانک ،کلاچی اور دامان اکثریتی سرائیکی علاقے شمار ہوتے تھے،جہاں سرائیکی کے علاوہ ہندکو دوسری بڑی زبان تھی ۔محمود غزنوی کے حملے کے بعد ان علاقوں میں افغان آباد کاری کی ابتداء ہوئی ، اورپھر ہر افغانی حملہ آور کے ہمراہ مختلف افغانی قبائل سرائیکی علاقوں میں پھیلتے چلے گئے ۔کوہ سلیمان سے ملحقہ سرائیکی علاقوں خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان،بنوں،ٹانک،کلاچی اور میانوالی میں افغان آباد کاری کی تاریخ دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی ہے ۔مثلاً حسین خان کلاچی (بلوچ) کے نام سے موسوم تحصیل کلاچی اور اسکے گردو نواح میں ١٣٠٠ء سے قبل مختلف جٹ قبائل بلوچوں کے ہمراہ آباد چلے آ رہے تھے،جہاں بلوچی اور سرائیکی زبان عام تھی۔

مزید تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s