صوبے والے بن کے بارے میں تاریخی معلومات، کلک کر کے پڑھیں


image

مکمل تھمے والی کی حدود میں آتا ہے اس کے پاس سے جو راستہ گذرتا ہے اسے شیرشاہ سوری روڈ بھی کہتے ہیں جو بن حافظ جی پر جاتا ہے مقامی طور پر اس کے متعلق کہا جاتا ہے یہ ،، صوبہ ،، نامی ایک شخص نے بنایا تھا وہ ہندو تھا یا مسلمان یہ بات کسی کو صیح معلوم نہیں لیکن واقعات کو باریکی سے دیکھا جائے تو یہ نشان دہی کرتے ہیں ،، صوبہ ،، نامی شخص مسلمان تھا ایک وجہ تو بن کے ساتھ واقع مسجد ہے جو قدیم مسجد ہے اگر ہندو نے یہ بنایا ہوتا تو لازمی ساتھ اپنی کوئ عبادت گاہ بناتے لیکن ایسی کوئ عمارت یا کھنڈر ساتھ موجود نہیں نہ کسی کو یاد ہے تھمے والی گاؤں میں ہندو لوگوں کا بازار ، ان کی لاشوں کو جلانے کی جگہ ، ان کی عبادت گاہیں ، یاد ہیں تھمے والی کے بزرگوں کو جو اب بھی ذندہ حیات ہیں ملک آف تھمے والی کا گھر جس کو مارکہ بھی کہتے ہیں یہاں بھی ایک تالاب یا کنواں ہوا کرتا تھا جو ملکیت تھا سکھوں کا یا ہندو لوگوں کا کنفرم نہیں لیکن ہر بزرگ اس بات کی تصدیق کرتا ہے دیکھا کسی نے نہیں انھوں نے بھی اپنے بزرگوں سے سنا اب اصل موضوع صوبہ والا بن بنایا کس دور میں گیا اس کے متعلق کہا جاتا ہے یہ 1505 یا 1515 میں بنایا گیا اوراس کا جو رقبہ ہے وہ بھی اسی دور کا ہے اب کچھ جدید باتیں جو کنفرم ہیں اس بن کا رقبہ 18 کنال 19 مرلے ہیں موجودہ مسجد بنائ گئ اگست 2002 میں 19 تاریخ کو چھت کیا گیا مسجد کا اور مسجد کا رقبہ 9 مرلہ ہے مسجد کے ساتھ نلکا مئ 2012 میں لگایا گیا تاریخ ہے 21 اور مسجد کا خسرہ نمبر ہے 3169 اور صوبے والا بن کا خسرہ نمبر 3170 ہے اس کے ساتھ منسلک جو تھمے والی کی طرف زمینیں ہیں ان کو کلوکیاں کہا جاتا ہے کلوکیاں میں ماضی قریب میں بڑا سا میدان تھا جہاں کبڈی کے مقابلے ہوتے تھے

تحریر : بابر اعوان (تھمےوالی)

مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے رابطہ کریں

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s