تھمےوالی ،وڈے کھو پر بوھڑ کے درخت کے بارے میں دلچسپ معلومات، ضرور پڑھیں


تھمےوالی میں یہ بوھڑ کا بھت پرانا درخت ہے ،جسکی عمر سو سال سے زیادہ ھی ھوگی، اس سے متصل ایک اور اور بوھڑ کا درخت ھوتا تھا جو ھماری یاد سے پہلے گر گیا تھا اس کے متعلق سنا تھا کہ 

اس کی چھاؤں تلے ھزاروں لوگ مولانا گل شیر شھید رحمۃ اللہ علیہ اور مولوی سرسری رح نے کی تقاریر سنا کرتے تھے یہ بوھڑ کا درخت بنیوں سے ذرا نیچے نواں روڈ پر واقع تھا کھتے ھیں کہ یہ اتنی بڑی بوھڑ تھی کہ سابقہ ایلیمنٹری سکول تھمےوالی تک پہنچا ھوا تھا
ملک غلام محمد مرحوم کے والد جناب ملک یارن خان مرحوم کے کے بھلے وقتوں میں اس کا ایک لڑ (شاخ) وڈے کھوہ سے پانی لانے والی خواتین کے لئے پریشانی کا باعث بن رہا تھا ایک دن ایک عورت پانی لانے کے بعد اس شاخ کے نیچے سے گذری تو شاخ سے ٹکرا کر اس کا گھڑا گر گیا اور فی البدیہہ کھنے لگی،،،
🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟

یارن ملکا وے لڑ بوھڑی دا ھنڑ گھن کپا
اوچیاں کڑیاں، لڑ لگھن ناں ڈیندا را
،،،
🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟
یہ اشعار جیسے ھی ملک یارن خان مرحوم تک پہنچنے تو وہ بڑے محظوظ ہو ئے اور اسی وقت وہ شاخ کٹوانے کے لیے لوھار وغیرہ بھیج دئیے،،،
یہ بوھڑ بڑا عرصہ تک اپنے سائے سے لوگوں کو جانوروں اور پرندوں کو مستفید کرتی رھی، قیام پاکستان کے بعد جناب ملک غلام محمد مرحوم نے اسے کٹوا دیا،،،

چڑیوں کو بھت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟

یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے حافظہ مجھ سے

🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟 🌟
پہلے وقتوں میں لوگ بوھڑ کے درخت لگاتے تھے آج بھی آپ کو دوران سفر بہت سی جگہوں اور علاقوں میں بوھڑ کے قدیم درخت نظر آئیں گے، ایک تو اس درخت کی عمر بڑی لمبی ھوتی ھے دوسرا اس وقت چونکہ ایک مخلوط معاشرہ تھا مسلمان، ھندو، سکھ اور پارسی ایک ھی شھر میں اکٹھے رھتے تھے اور ھندؤں کے نزدیک بوھڑ کے درخت کو ایک متبرک درخت بھی سمجھا جاتا تھا اس لیے اس کو اکثر جگہوں پر لگایا جاتا تھا اس کے نیچے انسان اور جانوانسان آرام کرتے اور پرندے گھونسلے بناتے اور چہچہاتے ،،،
عموماً آپ کو یہ درخت پانی کے تالابوں اور کنؤیں کے پاس نظر آے گا.
تھمےوالی یہ بوھڑ کا درخت دو جگہوں پر موجود تھا “” وڈا کھو”” اور بوھڑی والی چری “”
وڈے کھوہ پر اب صرف ایک ہی رہ گیا ہے ، جب کہ ،،، بوھڑی والی چری،، پر 1978/80 کےقریب اسے گرا دیا گیا تھا، اب صرف ایک وڈے کھوہ پر بوھڑ کا درخت رہ گیا جس پر گرمیوں کے موسم میں بڑی شھد کے مکھیاں آکر بسیرا کرتی ہیں اور شھد بناتی ہیں ھیں

تفصیل سے پڑھنے کا شکریہ

ایڈمن،، ٹی ایس ایس،،

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s