میانوالی کا بہادر فرزند اور پاکستان کا جیالا سپوت میجر جنرل ثناءاللہ خان نیازی کی زندگی پر مبنی ایک مضمون


 

fb_img_1477197270911

میجر جنرل ثناء اللہ خان نیازی کی عظیم شہادت

موبائل فون کی گھنٹی مجھے اپنے خواب میں بجتی ہوئی محسوس ہوئی، ہڑبڑا کر اُٹھا میں شاید صوفے پر بیٹھے بیٹھے سو گیا تھا۔موبائل اب بھی بج رہا تھا۔ کرنل ناصر کا نام ڈسپلے پر آرہا تھا۔ رات کے تین بج رہے تھے۔

میں نے کال لی تو ناصر نے کہا کہ سر جنرل آپ سے بات کریں گے‘ اگلے ہی لمحے جنرل ثناء کی ہشاش بشاش آواز سنائی دی’’ہاں بھئی سو گیا تھا‘‘ میں کچھ ہاں ناں کرتا سا رہ گیا۔ جنرل نے ایک میڈیا کے چینل پر چلتی پٹی کی طرف میری توجہ مبذول کروائی ’’یہ ٹھیک نہیں ہے‘‘ انہوں نے مجھے چینل کو صحیح اطلاع دینے کی ہدایت دی اور فون بند ہوگیا۔

fb_img_1477197446548

میں نے فوراً دی ہوئی ہدایت پر عمل کیا اور اصلاح کروائی۔ جنرل ثناء کے زیرِ کمان میری ان بہت سی راتوں میںیہ ایک اور رات تھی جب دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں جنرل خود اپنی کمان پوسٹ میں بیٹھ کر ساری رات تمام کارروائی کا جائزہ لے رہے ہوتے تھے، خود احکامات دیتے اور زیرِ کمان صیغوں کی راہنمائی کرتے۔ میجر جنرل ثناء اللہ خان بحیثیت مالاکنڈ ڈویژن کمانڈر 15 ستمبر 2013 ء کو بن شاہی (اپر دیر)کے مقام پر اگلے مورچوں کا دورہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی لگائی ہوئی IED کے پھٹنے سے شہید ہوگئے اور ان کے ساتھ یونٹ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل توصیف اور لانس نائیک عر فان ستار بھی شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے ۔

 

fb_img_1477197349640
فوج میں کہا جاتا ہے کہ جنرل آفیسر میں کوئی نہکوئی خوبی ایسی ہوتی ہے جو سب سے نمایاں اور منفرد ہوتی ہے۔ جنرل ثناء کی خوبی ان کا پیشہ ور سپاہی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی انسان دوست ہونا تھا۔ ان کے کہے ہوئے پہلے جملے سے ہی ماحول کو ٹھہراؤ آجاتا۔ سوات میں ان کے دور میں مختلف چیلنجز آئے لیکن انہیں ہمیشہ پرسکون اور پر وقار پایا ۔ ایک انتہائی نڈر سپاہی جو درپیش خطرات سے خوش اسلوبی سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ۔جو زیرِ کمان کی خطا کو درگزر کرنے والا اور بلا کا اہلِ فہم۔

شہادت سے ایک دن پہلے جن جوانوں کے ساتھ انہوں نے رات گزاری وہ پوسٹ دہشت گردوں کی کمین گاہ کے بہت قریب تھی اور کسی بھی وقت دہشت گردی کی کارروائی ہوسکتی تھی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جنرل ثناء کی اتنی قد آور شخصیت کو عام زندگی نہیں جینا تھا وہ ابدی حیات کے متلاشی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انگلینڈ میں فوجی قبرستان میں ایک ضعیف شخص قبروں کے قریب بیٹھا زار وقطار رو رہا تھا۔ کسی کو فکر ہوئی تو پوچھا کہ آپ کیوں اتنا رو رہے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ میں جنگ عظیم دوم کا فوجی ہوں اور یہ میرے ساتھیوں کی قبریں ہیں جو اس جنگ کے دوران ملک کی خا طر قربان ہوئے ۔ مرنا تو میں نے بھی ہے لیکن سوچتا ہوں کہ ان کے ساتھ مر جاتا تو کیسی عظیم موت تھی۔
بحیثیت PRO (Public Relation Officer) میں نے جنرل کے بہت قریب رہ کر کام کیا ۔ جنرل ہر مسئلے کے بارے میں بڑی توجہ سے سنتے اور پھر اپنا فیصلہ دیتے۔ کئی موقعوں پر دلائل سن کر اپنے دےئے ہوئے حکم کو موقعے کی مناسبت سے ڈھالتے اور اس میں کبھی بھی ناراضگی یا ناگواری کا شائبہ تک نہ ہوتا۔ مختلف دوروں میں فوجی جوانوں کے ساتھ ایسے ملتے کہ فوجیوں کی تھکان دور ہوجاتی ۔ شہادت سے ایک رات پہلے جس پوسٹ پر رات کو ٹھہرے وہاں پر اپنے لئے ناشتے کی فرمائش میں کہا کہ مجھے رات کی روٹی اور سالن دے دو۔
ان کے سٹاف آفیسر میجر سلیم کے پاس ہر وقت فوجی جوانوں کے مسائل کی ایک لسٹ نوٹ ہوتی جس میں زیادہ تر جوانوں کے گھریلو مسائل ہوتے اور جنرل انہیں حل کرنے میں کوشاں رہتے۔ میرے ذاتی معاملات میں بھی جنرل ثناء نے دلچسپی لے کر میری مدد کی اور جب بھی ان کا شکریہ ادا کرنا چاہا انہوں نے بے نیازی سے کہا \”اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو\” ظرف اور کشادہ دلی اتنی کہ دوسرے کے لئے سمیٹنا مشکل ہو جائے۔ جنرل کے پاس ایک رپورٹ آئی کہ کوئی شخص فوج کے رفاہ عامہ کے کئے ہوئے کاموں کا سہرہ اپنے سر لے رہا ہے اور اس کے عوض وہ مختلف جگہوں سے فنڈ بھی اکٹھا کر رہا ہے ۔ جنرل کا سوال تھا کہ کیا اس نے سوات کے حوالے سے کوئی خدمت کی ہے ؟۔ جواب ملا کہ کی تو ہے لیکن محدود ۔ جنرل نے کہا کہ اگر اس طرح سوات کو کچھ اور فائدہ ہوجاتاہے تو مجھ پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جنرل نے ایک دورے کے دوران پگوڑے گاؤں )ڈسٹرکٹ شانگلہ) میں مقامی لوگوں کی درخواست پر ایک گرلزسکول کھولنے کا وعدہ کیا۔ سکول کا تخمینہ اتنا زیادہ تھا کہ کوئی بھی اس کو فنڈ کرنے کو نہیں مل رہا تھا ۔ اس کی وجہ سکول کے تعمیر کے مقام کا انتہائی دور افتادہ ہونا تھا۔ جنرل نے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لئے اپنے ذاتی پیسے مختص کیے۔ اس کے علاوہ اپنے تما م دوستوں اور رشتہ داروں سے بھی انہوں نے اس کے لئے مالی مدد لی۔ جنرل ثناء ہر نئے آئیڈیا کو سنتے اور اس کی تکمیل میں ہر قسم کی ضروریات کو پورا کرنے کی ہدایت دیتے۔
جنرل کی جدائی کی خبر پر ہر دل دکھا لیکن اس احساس سے کہ جو رتبہ انہیں ملا ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا سے ممکن ہے۔ جنرل کی فیملی کے لئے یقینایہ ایک کٹھن لمحہ ہے ان کی بیگم اور بیٹیاں ایک عظیم انسان کی ظاہری موجودگی سے تو ضرور محروم ہوئی ہیں لیکن ان کے لئے یہ باعث تقویت ہے کہ شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام گھر والوں کو استقامت اوربلند حوصلہ دے۔ آمین

(تحریر: گمنام سپاہی ماہنامہ حلال)

 

fb_img_1477197315211

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s