واٹر سپلائی سکیم تھمےوالی کی تاریخ پر مبنی ایک خوبصورت مضمون، ضرور پڑھیں


fb_img_1477241369923
تھمے والی میں واٹرسپلائ کےمنصوبے کا آغاز محترم جناب ملک محمداسلم صاحب مرحوم ومغفورکی خصوصی دلچسپی سے انیس سواسی کے قریب کامشروع ھوا

جس کیلۓ تقریبا 48 لاکھ روپیہ مختص ھوا جواس وقت ضلع میانوالی کا واٹرسپلائ کا سب سے بڑا منصوبہ تھا اس کیلۓ درجنوں سروے ھوۓ .
چشمۂ لونگی کے کئ دورے ھوۓ پانی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا …
اس منصوبے میں چشمہ لونگی سے تھمےوالی تک پانی کی ترسیل کے لۓ ڈیڈھ انچ کی پائپ لائن بچھائ گئ، ایک بڑا واٹر ٹینک بنایا گیا ، شہر کی ھرگلی میں پائپ لائن بچھائ گئ تاکہ ھرگھرکو پانی کی سھولت میسرھوسکے ، ڈھوک ٹٹیر ، ڈہوک آرائیں ، ڈھوک گلوخیل ، جھور ، سانگہ تک پائپ لائن بچھائ گئ اور ایک کنواں بھی کھدوایا گیا

اس منصوبے کی تکمیل سے صرف چشمہ لونگی سے آٹومیٹک طریقے سے چوبیس گھنٹوں میں تین مرتبہ واٹرٹینک بھر جاتا ، تھمےوالی کی گلیاں برسات کا منظر پیش کرنےلگیں ، خشک سالی کے باعث زیرزمین پانی کی کمی آتی گئ جس کے باعث آس پاس کی آبادیوں کا پانی ختم ھوتا گیا ….

بھائ ملک ظفراقبال صاحب کی کوششوں سے ایک اوراضافی کنوئیں اورموٹرکیلۓ رقم منظور کرائ گئ بنیوں کے پاس اس کنوئیں پرکام شروع پانی بہتر اورمیٹھا تھا جواس وقت کام کر رھی ھا ہے جس میں پہلے کنؤئیں سےکہیں بھتر اور وافر ھے اس کنؤئیں کا پانی دوسرے کنؤئیں میں جاتا ھے پھر بڑی موٹرکے ذریعے واٹر ٹینک تک جاتا ھے ….

پھر یوزر کمیٹی بنی جس کےچئیرمین چاچا فوجی عبدالرحمن تھے پانی کی بہتری کیلۓ بھرپور جدوجہد کی کئ بار چشمہ لونگی کا وزٹ کیا گیا تمام توجہ چشمۂ لونگی پر رھی پائپ لائنوں کی مرمت کرائ گئ اور اسے فعال کیا گیا ، ڈھوک گلوخیل کیلۓ محترم ملک احمد خان کونسلر ممبر یوزرکمیٹی نے یوسی فنڈ سے ایک پانی کی ٹینکی لونگی والے پانی پر بنا کردی چشمۂ لونگی کا پانی فعال ھوا اور اٹھارہ گھنٹے میں واٹرٹینک بھر جاتا آھستہ آھستہ زیر زمین پانی کی کمی آتی رھی اور پانی کا دورانیہ بڑھتا رھا کبھی پائپ ٹوٹ جاتے …..


یوزرکمیٹی جو فوجی عبدالرحمن ، جناب ملک ظفراقبال (اعزازی ركن ) ملک احمد خان ، استاد حافظ رشید احمد ، حافظ اللہ یارندیم آرا مشین والے ، داكترمحمد خليل ، عبدالرؤف اعوان ، غلام صدیق زرگر اور راقم الحروف پرمشتمل تھی نے اس مسئلے کے حل کیلۓ ایشیائ ترقیاتی بینک سے رجوع کیا انہوں نے کچھ رقم سیکورٹی کی مانگی جو یوزرکمیٹی کےارکان نے مبلغ تیس ھزار روپے اپنی ذاتی جیب سے جمع کرائ اس کے عوض بینک نے مختلف جگہوں پر پانی ٹیسٹ اور چیک کیا سانگہ میں ایک مقام پر پانی وافر مقدار میں موجود تھا لیکن مالکان اراضی نے اجازت نہ دی حاجی غلام صدیق آرا مشین والوں نے اجازت دی لیکن ان کے کنوئیں کا پانی لیبارٹری ٹسٹ کے بعد ریجکیٹ قرار دے گیا
بینک نے علاقے بھر میں سب سے بہترین پانی بابا غلام قادرعثمان خیل آف جھبر عثمان خیل کے ھینڈ پمپ کا قراردیا لیکن مطلوبہ مقدارمیں موجود نہ تھا …
ایشیائ ترقیاتی بینک نے دس انچ قطر کے چار بور رگ مشین کے ذریعے کۓ
ایک پرانی واٹرسکیم کے کنوئیں کےپاس
دوسربور وڈا کھوہ کے پاس تیسرا بور گاؤں کےشمال میں چاچا یارمحمد جانے خیل وغیرہ کی اراضی پر اور چوتھا بور بڈھامار میں کیا لیکن پانی کی مطلوبہ مقدار نۂ مل سکی …..
جن دنوں پاک آرمی رقبہ خرید رھی تھی تو میرے ھی مشورے یوزرکمیٹی نواں اور تھمےوالی کے ممبران نے پاکستان آرمی کے بریگیڈیئرسیدحشمت صاحب سے ملاقات کرکے ان کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہارکیا کہ نواں اورتھمےوالی کے عوام کا کلی انحصار چشمہ لونگی اورڈبک کے پانی پر ھے لہذا اس پانی کو بند نہ جاۓ اس وقت بریگیڈیر حشمت صاحب نے واضح طور پر اس بات کی وضاحت کی کہ دونوں گاؤں کا پانی اسی طرح چلتا رھےگا بلکہ ھم اسے مزید بہتر بنائیں گے …..
گو اس حوالے سے تحریری معاھدہ نہ ھوا +
بعد میں جب اندر کام شروع ھوا تو پیغام ملا کچھ ضروری کام کی وجہ چشمہ لونگی سے کئ پائپ اکھاڑ کر ایک سائیڈ پر رکھ لیں ، کئ افراد اجازت سے وھاں گۓ پائپ لائن اتار کر ایک طرف رکھ دی گئ وہ دن اور آج کا دن پانی بحال نہ سکا ………….
موجودہ سسٹم سے تھمےوالی کے عوام کو ترسا ترسا کر پانی دیا جارھا ھے ، بجلی کی لوڈشیڈنگ ، کم وولٹیج اور ایک کنوئیں سے دوسرے کنوئیں میں پھر وھاں سے واٹرٹینک تک ، پھرکچھ دن بعد عوام کو سپلائ ھوتا ھے اور اب تو یہ مسئلہ گھمبھیر صورت حال اختیار کر گیا ….
آج سے چند سال قبل سنا تھا کہ ھمارے محافظ اپنے لۓ اورتھمےوالی کےلۓ نمل جھیل سے پانی كا منصوبہ بنا رھے ھیں کیوں کہ ان کیلۓ بھی پانی اتنا ھی ضروری تها جتنا تھمےوالی کےعوام کیلۓ ضروری ھے لیکن فنڈز کی کمی آڑے آگئ اب اس پر کام ھوگا یا نہیں کچھ کہ نھیں سکتے ……….
+
تھمےوالی کےعوام کے ایک وفد نے پروجیکٹ انچارج سے ملاقات کی کوشش کی لیکن جواب ملا کہ جوکچھ کہنا ھے درخواست میں لکھ کر بھیج دیں سو وہ جمع کرا دی گئ تھۂ جس کا جواب نہ دیا گیا …….
+
تھمےوالی کا عوام کو پانی مہیا کرنا پروجیکٹ والوں پر قرض ھے.
تھمے والی میں واٹرسپلائ کےمنصوبے کا آغاز محترم جناب ملک محمداسلم صاحب مرحوم ومغفورکی خصوصی دلچسپی سے انیس سواسی کے قریب کام شروع ھوا
جس کیلۓ تقریبا 48 لاکھ روپیہ مختص ھوا جواس وقت ضلع میانوالی کا واٹرسپلائ کا سب سے بڑا منصوبہ تھا اس کیلۓ درجنوں سروے ھوۓ .
چشمۂ لونگی کے کئ دورے ھوۓ پانی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا …
اس منصوبے میں چشمہ لونگی سے تھمےوالی تک پانی کی ترسیل کے لۓ ڈیڈھ انچ کی پائپ لائن بچھائ گئ، ایک بڑا واٹر ٹینک بنایا گیا ، شہر کی ھرگلی میں پائپ لائن بچھائ گئ تاکہ ھرگھرکو پانی کی سھولت میسرھوسکے ، ڈھوک ٹٹیر ، ڈہوک آرائیں ، ڈھوک گلوخیل ، جھور ، سانگہ تک پائپ لائن بچھائ گئ اور ایک کنواں بھی کھدوایا گیا
اس منصوبے کی تکمیل سے صرف چشمہ لونگی سے آٹومیٹک طریقے سے چوبیس گھنٹوں میں تین مرتبہ واٹرٹینک بھر جاتا ، تھمےوالی کی گلیاں برسات کا منظر پیش کرنےلگیں ، خشک سالی کے باعث زیرزمین پانی کی کمی آتی گئ جس کے باعث آس پاس کی آبادیوں کا پانی ختم ھوتا گیا ….
بھائ ملک ظفراقبال صاحب کی کوششوں سے ایک اوراضافی کنوئیں اورموٹرکیلۓ رقم منظور کرائ گئ بنیوں کے پاس اس کنوئیں پرکام شروع پانی بہتر اورمیٹھا تھا جواس وقت کام کر رھی ھا ہے جس میں پہلے کنؤئیں سےکہیں بھتر اور وافر ھے اس کنؤئیں کا پانی دوسرے کنؤئیں میں جاتا ھے پھر بڑی موٹرکے ذریعے واٹر ٹینک تک جاتا ھے ….
پھر یوزر کمیٹی بنی جس کےچئیرمین چاچا فوجی عبدالرحمن تھے پانی کی بہتری کیلۓ بھرپور جدوجہد کی کئ بار چشمہ لونگی کا وزٹ کیا گیا تمام توجہ چشمۂ لونگی پر رھی پائپ لائنوں کی مرمت کرائ گئ اور اسے فعال کیا گیا ، ڈھوک گلوخیل کیلۓ محترم ملک احمد خان کونسلر ممبر یوزرکمیٹی نے یوسی فنڈ سے ایک پانی کی ٹینکی لونگی والے پانی پر بنا کردی چشمۂ لونگی کا پانی فعال ھوا اور اٹھارہ گھنٹے میں واٹرٹینک بھر جاتا آھستہ آھستہ زیر زمین پانی کی کمی آتی رھی اور پانی کا دورانیہ بڑھتا رھا کبھی پائپ ٹوٹ جاتے …..
یوزرکمیٹی جو فوجی عبدالرحمن ، جناب ملک ظفراقبال (اعزازی ركن ) ملک احمد خان ، استاد حافظ رشید احمد ، حافظ اللہ یارندیم آرا مشین والے ، داكترمحمد خليل ، عبدالرؤف اعوان ، غلام صدیق زرگر اور راقم الحروف پرمشتمل تھی نے اس مسئلے کے حل کیلۓ ایشیائ ترقیاتی بینک سے رجوع کیا انہوں نے کچھ رقم سیکورٹی کی مانگی جو یوزرکمیٹی کےارکان نے مبلغ تیس ھزار روپے اپنی ذاتی جیب سے جمع کرائ اس کے عوض بینک نے مختلف جگہوں پر پانی ٹیسٹ اور چیک کیا سانگہ میں ایک مقام پر پانی وافر مقدار میں موجود تھا لیکن مالکان اراضی نے اجازت نہ دی حاجی غلام صدیق آرا مشین والوں نے اجازت دی لیکن ان کے کنوئیں کا پانی لیبارٹری ٹسٹ کے بعد ریجکیٹ قرار دے گیا
بینک نے علاقے بھر میں سب سے بہترین پانی بابا غلام قادرعثمان خیل آف جھبر عثمان خیل کے ھینڈ پمپ کا قراردیا لیکن مطلوبہ مقدارمیں موجود نہ تھا …
ایشیائ ترقیاتی بینک نے دس انچ قطر کے چار بور رگ مشین کے ذریعے کۓ
ایک پرانی واٹرسکیم کے کنوئیں کےپاس
دوسربور وڈا کھوہ کے پاس تیسرا بور گاؤں کےشمال میں چاچا یارمحمد جانے خیل وغیرہ کی اراضی پر اور چوتھا بور بڈھامار میں کیا لیکن پانی کی مطلوبہ مقدار نۂ مل سکی …..
جن دنوں پاک آرمی رقبہ خرید رھی تھی تو میرے ھی مشورے یوزرکمیٹی نواں اور تھمےوالی کے ممبران نے پاکستان آرمی کے بریگیڈیئرسیدحشمت صاحب سے ملاقات کرکے ان کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہارکیا کہ نواں اورتھمےوالی کے عوام کا کلی انحصار چشمہ لونگی اورڈبک کے پانی پر ھے لہذا اس پانی کو بند نہ جاۓ اس وقت بریگیڈیر حشمت صاحب نے واضح طور پر اس بات کی وضاحت کی کہ دونوں گاؤں کا پانی اسی طرح چلتا رھےگا بلکہ ھم اسے مزید بہتر بنائیں گے …..
گو اس حوالے سے تحریری معاھدہ نہ ھوا +
بعد میں جب اندر کام شروع ھوا تو پیغام ملا کچھ ضروری کام کی وجہ چشمہ لونگی سے کئ پائپ اکھاڑ کر ایک سائیڈ پر رکھ لیں ، کئ افراد اجازت سے وھاں گۓ پائپ لائن اتار کر ایک طرف رکھ دی گئ وہ دن اور آج کا دن پانی بحال نہ سکا ………….
موجودہ سسٹم سے تھمےوالی کے عوام کو ترسا ترسا کر پانی دیا جارھا ھے ، بجلی کی لوڈشیڈنگ ، کم وولٹیج اور ایک کنوئیں سے دوسرے کنوئیں میں پھر وھاں سے واٹرٹینک تک ، پھرکچھ دن بعد عوام کو سپلائ ھوتا ھے اور اب تو یہ مسئلہ گھمبھیر صورت حال اختیار کر گیا ….
آج سے چند سال قبل سنا تھا کہ ھمارے محافظ اپنے لۓ اورتھمےوالی کےلۓ نمل جھیل سے پانی كا منصوبہ بنا رھے ھیں کیوں کہ ان کیلۓ بھی پانی اتنا ھی ضروری تها جتنا تھمےوالی کےعوام کیلۓ ضروری ھے لیکن فنڈز کی کمی آڑے آگئ اب اس پر کام ھوگا یا نہیں کچھ کہ نھیں سکتے ……….
+
تھمےوالی کےعوام کے ایک وفد نے پروجیکٹ انچارج سے ملاقات کی کوشش کی لیکن جواب ملا کہ جوکچھ کہنا ھے درخواست میں لکھ کر بھیج دیں سو وہ جمع کرا دی گئ تھۂ جس کا جواب نہ دیا گیا …….
+
تھمےوالی کا عوام کو پانی مہیا کرنا پروجیکٹ والوں پر قرض ھے.

+
اب آئیں اس پریشانی کے حل کی جانب …..
عارضی حل :
واٹرسپلائ کنوان نمبر دو پر بڑی موٹر لگا کر اس کا پانی براہ راست واٹرٹینک میں ڈالا جاۓ
+
مستقل حل :
نمل جھیل سے مستقل بنیادوں پر پائپ لائن بچھا کر پانی مہیا کیا جاۓ جو کافی مہنگا کام ھے اس کیلۓ کافی رقم کی ضرورت ھوگی جو ملنا بہت مشکل ھے …. البتہ کوشش کی جا سکتی ھے ….
والسلام ایڈمن
ٹی ایس ایس تھمےوالی

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s